خرطوم /دبئی،20/اکتوبر (آئی این ایس انڈیا) سوڈانی وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کا کہنا ہے کہ ہماری قوم کبھی بھی دہشت گردی کی سرپرست یا علمبردار نہیں رہی۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کا ملک سوڈان کا نام دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے خارج کر دے گا۔
منگل کی صبح سرکاری ٹیلی وژن پر خطاب میں حمدوک کا کہنا تھا کہ ہمارے سامنے طویل راستہ ہے جس کے لیے ہمیں سنجیدہ منصوبہ بندی اور مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تا کہ اس موقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔
حمدوک کے مطابق یہ اقدام سوڈان کو عالمی برادری کے نقشے میں واپس لے آئے گا۔ مزید یہ کہ عالمی مالیاتی اور بینکنگ نظام کی طرف لوٹنے کی جانب سوڈان کے لیے وسیع دروازہ کھل جائے گا۔ اسی طرح سوڈان کے قرضوں سے نمٹنے اور غیر ملکی و بین الاقوامی سرماریہ کاری کی راہیں ہموار ہوں گی۔
سوڈانی وزیر اعظم نے واضح کیا کہ اس فیصلے سے ان کے ملک پر 60 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کو معاف کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پابندیوں نے سوڈان کو سرمایہ کاری اور ٹکنالوجی سے محروم کر دیا۔
حمدوک نے اس بڑی کامیابی پر سوڈانی عوام کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار کی ذمے داری سنبھالتے ہی ہم نے امریکی انتظامیہ کے ساتھ اس قضیے کے حوالے سے سنجیدہ مکالمہ شروع کر دیا تھا۔
اس سے قبل پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ خرطوم حکومت کی جانب سے 33.5 کروڑ ڈالر کی رقم مختص کرتے ہی واشنگٹن سوڈان کا نام دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے خارج کر دے گا۔ یہ رقم دہشت گرد حملوں کا شکار ہونے والے امریکیوں کو ادا کیا جانا طے پایا ہے۔
ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ سوڈان کی نئی حکومت دہشت گردی کا شکار ہونے والے امریکیوں اور ان کے اہل خانہ کو 33.5 کروڑ ڈالر کی رقم ادا کرنے پر آمادہ ہو گئی ہے۔ اس رقم کے منتقل ہوتے ہی میں سوڈان کا نام مذکورہ فہرست سے نکال دوں گا۔ بالآخر امریکی عوام کو انصاف مل گیا، اور یہ سوڈان کے لیے ایک بڑا قدم ہے!۔
واضح رہے کہ معزول صدر عمر البشیر کے دور میں سوڈان کو دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں سوڈان کی عبوری حکومت کے لیے قرضوں سے فوری استثنا یا غیر ملکی فنڈنگ مشکل بن گئی۔